سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ قَبْلَ تَمَامِهِ باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِيهِ طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ " ، وَأُهْدِيَ لَهُ حَيْسٌ ، فَقَالَ : " إِنِّي آكُلُ وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " . لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنِ ابْنِ عُنَيْنَةَ غَيْرُ الْبَاهِلِيِّ ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَى قَوْلِهِ : " وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " ، وَلَعَلَّهُ شُبِّهَ عَلَيْهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، لِكَثْرَةِ مَنْ خَالَفَهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور کہا: ”میں نے روزہ رکھنے کا ارادہ کیا ہے۔“ پھر آپ کی خدمت میں حیس لایا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”میں اس میں سے کھا لیتا ہوں اور اس روزے کی جگہ پھر کسی دن روزہ رکھ لوں گا۔“ ان الفاظ میں اس روایت کو صرف باہلی نے نقل کیا ہے، کسی اور نے نقل نہیں کیا ہے اور کسی نے اس کی متابعت نہیں کی ہے، یعنی ان الفاظ کی: ”اس کی جگہ پھر روزہ رکھ لوں گا۔“ شاید یہ بات ان کے لیے مشتبہ ہو گئی ہو، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، کیونکہ دیگر راویوں نے ابن عیینہ سے ان الفاظ کو نقل کرنے میں اختلاف کیا ہے۔