حدیث نمبر: 2237
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِيهِ طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ " ، وَأُهْدِيَ لَهُ حَيْسٌ ، فَقَالَ : " إِنِّي آكُلُ وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " . لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنِ ابْنِ عُنَيْنَةَ غَيْرُ الْبَاهِلِيِّ ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَى قَوْلِهِ : " وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " ، وَلَعَلَّهُ شُبِّهَ عَلَيْهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، لِكَثْرَةِ مَنْ خَالَفَهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
محمد محی الدین

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور کہا: ”میں نے روزہ رکھنے کا ارادہ کیا ہے۔“ پھر آپ کی خدمت میں حیس لایا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”میں اس میں سے کھا لیتا ہوں اور اس روزے کی جگہ پھر کسی دن روزہ رکھ لوں گا۔“ ان الفاظ میں اس روایت کو صرف باہلی نے نقل کیا ہے، کسی اور نے نقل نہیں کیا ہے اور کسی نے اس کی متابعت نہیں کی ہے، یعنی ان الفاظ کی: ”اس کی جگہ پھر روزہ رکھ لوں گا۔“ شاید یہ بات ان کے لیے مشتبہ ہو گئی ہو، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، کیونکہ دیگر راویوں نے ابن عیینہ سے ان الفاظ کو نقل کرنے میں اختلاف کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2237
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1154، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2141، 2143، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3628،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2326 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2455، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 733، 734، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1701، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8009، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2232، 2233، 2236، 2237،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 190، 191 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24857، والترمذي فى "الشمائل"، 182، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7364»
«قال الدارقطني: وهذه الزيادة غير محفوظة ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 362)»