سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ قَبْلَ تَمَامِهِ باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا ، فَيَقُولُ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ غَدَاءٍ ؟ " ، فَإِنْ قُلْنَا : نَعَمْ ، تَغَدَّى ، وَإِنْ قُلْنَا : لا ، قَالَ : " إِنِّي صَائِمٌ " ، وَإِنَّهُ أَتَانَا ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ وَقَدْ خَبَّأْنَا لَكَ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ " . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور دریافت کرتے: ”کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ اگر ہم جواب دیتے: جی ہاں! تو آپ وہ کھا لیتے اور اگر ہم عرض کرتے: جی نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“ ایک مرتبہ آپ ہمارے ہاں تشریف لائے، تو ہمیں تحفہ کے طور پر (حیس) بھیجا گیا تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں تحفے کے طور پر حیس دیا گیا ہے، جو میں نے آپ کے لیے سنبھال کے رکھا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تو صبح روزے کی نیت کی تھی۔“ لیکن پھر آپ نے اسے کھا بھی لیا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔