حدیث نمبر: 2236
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا ، فَيَقُولُ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ غَدَاءٍ ؟ " ، فَإِنْ قُلْنَا : نَعَمْ ، تَغَدَّى ، وَإِنْ قُلْنَا : لا ، قَالَ : " إِنِّي صَائِمٌ " ، وَإِنَّهُ أَتَانَا ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ وَقَدْ خَبَّأْنَا لَكَ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ " . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور دریافت کرتے: ”کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ اگر ہم جواب دیتے: جی ہاں! تو آپ وہ کھا لیتے اور اگر ہم عرض کرتے: جی نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“ ایک مرتبہ آپ ہمارے ہاں تشریف لائے، تو ہمیں تحفہ کے طور پر (حیس) بھیجا گیا تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں تحفے کے طور پر حیس دیا گیا ہے، جو میں نے آپ کے لیے سنبھال کے رکھا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تو صبح روزے کی نیت کی تھی۔“ لیکن پھر آپ نے اسے کھا بھی لیا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2236
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1154، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2141، 2143، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3628،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2326 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2455، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 733، 734، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1701، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8009، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2232، 2233، 2236، 2237،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 190، 191 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24857، والترمذي فى "الشمائل"، 182، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7364»
«قال الدارقطني: صححه ، شرح الزرقاني على الموطأ: (2 / 230)»