سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ قَبْلَ تَمَامِهِ باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً ، قَالَ : مَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : إِنَّ أَخَاكَ يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ ، وَلَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي نِسَاءِ الدُّنْيَا ، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَرَحَّبَ بِهِ سَلْمَانُ وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا ، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ : أَطْعِمْ ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُفْطِرَنَّهُ ، قَالَ : مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ فَأَكَلَ مَعَهُ ، ثُمَّ بَاتَ عِنْدَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ فَمَنَعَهُ سَلْمَانُ ، وَقَالَ لَهُ : " إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصَلِّ وَنَمْ ، وَائْتِ أَهْلَكَ وَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقِّ حَقَّهُ " ، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ ، قَالَ : قُمِ الآنَ إِنْ شِئْتَ ، فَقَامَا فَتَوَضَّيَا ثُمَّ رَكَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلاةِ ، فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيُخْبِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَمَرَهُ سَلْمَانُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا " ، مثل مَا قَالَ سَلْمَانُ . لَفْظُ أَبِي طَالِبٍ.عون بن ابوحجیفہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلیمان فارسی اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے کا (منہ بولا بھائی) بنا دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا سلیمان، سیدنا ابودرداء سے ملنے کے لیے آئے، تو سیدہ ام درداء کو خراب حالت میں دیکھا، تو دریافت کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کے بھائی رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں، دن کے وقت روزہ رکھتے ہیں، انہیں دنیا کی اور بیوی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کو خوش آمدید کہا اور ان کے آگے کھانا رکھا، تو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ بھی کھائیے، انہوں نے جواب دیا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ روزہ توڑ دیں، سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا: میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا، جب تک آپ نہیں کھائیں گے، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ کھانا کھا لیا۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ رات کے وقت ان کے ہاں گئے، جب رات کا وقت ہوا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ نوافل ادا کرنے شروع کریں، تو سیدنا سلیمان نے انہیں روک دیا اور ان سے کہا: آپ کے جسم کا بھی آپ پر حق ہے، آپ کے پروردگار کا بھی آپ پر حق ہے، آپ کی بیوی کا بھی آپ پر حق ہے، آپ نفلی روزہ رکھیں بھی اور کسی دن چھوڑ بھی دیں، (نفلی نماز) ادا بھی کریں اور سو بھی جایا کریں، اپنی اہلیہ کے پاس بھی جایا کریں، ہر حقدار کو اس کا حق دیا کریں۔ جب صبح کا وقت قریب آیا، تو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اب آپ اٹھیں، اگر آپ (نوافل ادا کرنا چاہتے ہیں)۔ یہ دونوں حضرات اٹھے، انہوں نے نوافل ادا کیے، پھر (فجر کی نماز) ادا کرنے کے لیے چلے گئے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس چیز کے بارے میں بتائیں، جو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہی تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے ابودرداء! تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔“ آپ نے وہی بات ارشاد فرمائی، جو سیدنا سلیمان نے ارشاد فرمائی تھی۔ روایت کے یہ الفاظ ابوطالب نامی راوی کے ہیں۔