حدیث نمبر: 2233
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَطْحَاءَ ، وَآخَرُونَ قَالُوا : نا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : " إِذًا أَصُومُ " ، وَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا آخَرَ ، فَقَالَ : " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " إِذًا أُطْعِمُ ، وَإِنْ كُنْتُ قَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، دریافت کیا گیا: ”تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟“ میں نے عرض کی: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو آپ نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر میں کھا لیتا ہوں، اگرچہ میں نے روزے کی نیت کی تھی۔“ اس روایت کی سند حسن صحیح ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح
تخریج حدیث «إسناده حسن صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1154، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2141، 2143، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3628،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2326 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2455، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 733، 734، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1701، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8009، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2232، 2233، 2236، 2237،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 190، 191 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24857، والترمذي فى "الشمائل"، 182، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7364»
«قال الدارقطني: هذا إسناد حسن صحيح ، سنن الدارقطني: (3 / 136) برقم: (2233)»