سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ قَبْلَ تَمَامِهِ باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
حدیث نمبر: 2232
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وأَبُو أُمَيَّةَ ، قَالا : نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ طَعَامًا فَجَاءَ يَوْمًا ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ " ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : " إِنِّي صَائِمٌ " .محمد محی الدین
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھانے کو پسند کرتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو دریافت کیا: ”آپ کے پاس وہ والا کھانا ہے؟“ میں نے عرض کی: نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“