سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ قَبْلَ تَمَامِهِ باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ ، فَيَقُولُ لَنَا : " أَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ أَتَاكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، قَالَتْ : فَنَقُولُ : أَوَلَمْ تُصْبِحْ صَائِمًا ، فَيَقُولُ : " بَلَى ، وَلَكِنْ لا بَأْسَ أَنْ أُفْطِرَ مَا لَمْ يَكُنْ نَذْرًا أَوْ قَضَاءَ رَمَضَانَ " . مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ الْعَرْزَمِيُّ ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت روزہ رکھنے کا ارادہ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے دریافت کرتے: ”کیا تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز موجود ہے، کوئی (کھانے کی چیز) تمہارے پاس آئی؟“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ عرض کرتے: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح روزے کی نیت نہیں کی تھی؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”ہاں! لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کہ میں روزہ توڑ دوں، جبکہ وہ نذر کا نہ ہو، رمضان کا نہ ہو۔“ محمد بن عبیداللہ نامی راوی عرزمی ہے اور یہ راوی ضعیف ہے۔