سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ قَبْلَ تَمَامِهِ باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
حدیث نمبر: 2229
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، ثنا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ ، إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ " . اخْتُلِفَ عَنْ سِمَاكٍ فِيهِ ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ سِمَاكٌ مِنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”نفلی روزہ رکھنے والا شخص اپنی ذات کے بارے میں امین (راوی کو شک ہے: امیر، یعنی وہ اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے) چاہے، تو روزہ رکھ لے، اگر چاہے، تو توڑ دے۔“ اس بارے میں سماک سے نقل کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ سماک نے اس حدیث کو سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے سے سنا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔