حدیث نمبر: 2227
حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا أَبُو مُوسَى ، ثنا الْوَلِيدُ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ هَارُونَ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، أَنَّهَا قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا صَائِمَةٌ فَنَاوَلَنِي فَضْلَ شَرَابٍ فَشَرِبْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِي يَوْمًا مَكَانَهُ ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِيهِ ، وَإِنْ شِئْتِ فَلا تَقْضِهِ " . رَوَاهُ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ.
محمد محی الدین

ہارون اپنی دادی (سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا) سے یہ بات نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے روزہ رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشروب کا بچا ہوا میری طرف بڑھایا، تو میں نے اسے پی لیا، پھر میں نے عرض کی: میں نے تو روزہ رکھا ہوا تھا اور مجھے یہ بات بھی پسند نہیں تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے کو واپس کروں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ رمضان کی قضاء کا روزہ تھا، تو تم اس کی جگہ ایک دن روزہ رکھ لینا اور اگر نفلی روزہ تھا، تو اگر تم چاہو، تو اس کی قضاء کر لینا، اگر چاہو، تو قضاء نہ کرنا۔“ اس روایت کو حاتم بن ابوصغیرہ نے سماک کے حوالے سے، ابوصالح کے حوالے سے، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2227
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1605، 1606، والنسائی فى ((الكبریٰ)) برقم: 3288، 3289، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2456، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 731، 732، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1776، 1777، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2222، 2223، 2224، 2225، 2226، 2227، 2228، 2229، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27534»
«قال النسائي : اختلف على سماك فيه وسماك ليس يعتمد عليه إذا انفرد بالحديث ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 734)»