سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ قَبْلَ تَمَامِهِ باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، إِمْلاءً ، ثنا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ ابْنُ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً ، فَقَالَ لَهَا : " أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا ؟ " ، قَالَتْ : لا ، قَالَ : " فَلا يَضُرُّكِ " . اخْتُلِفَ عَنْ سِمَاكٍ.سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشروب لایا گیا، آپ نے اسے پیا، پھر میری طرف بڑھا دیا، پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں نے روزہ رکھا ہوا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے کوئی قضاء روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے عرض کی: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔“ سماک نامی راوی سے نقل کرنے میں اس روایت کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے۔