حدیث نمبر: 2223
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، إِمْلاءً ، ثنا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ ابْنُ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً ، فَقَالَ لَهَا : " أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا ؟ " ، قَالَتْ : لا ، قَالَ : " فَلا يَضُرُّكِ " . اخْتُلِفَ عَنْ سِمَاكٍ.
محمد محی الدین

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشروب لایا گیا، آپ نے اسے پیا، پھر میری طرف بڑھا دیا، پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں نے روزہ رکھا ہوا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے کوئی قضاء روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے عرض کی: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔“ سماک نامی راوی سے نقل کرنے میں اس روایت کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2223
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1605، 1606، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3288، 3289، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2456، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 731، 732، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1776، 1777، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2222، 2223، 2224، 2225، 2226، 2227، 2228، 2229، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27534»
«قال النسائي : لم يسمعه جعدة من أم هانئ وتارة عن هارون ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 734)»