سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ قَبْلَ تَمَامِهِ باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
حدیث نمبر: 2222
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَهِيَ جَدَّتُهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَنِي ، فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصَّائِمَ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرٌ أَوْ أَمِينُ نَفْسِهِ ، فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِي وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِي " .محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، آپ کے لیے ایک برتن بڑھایا گیا، تو آپ نے اس میں سے پیا، پھر وہ برتن میری طرف بڑھا دیا، میں نے عرض کی: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفلی روزہ رکھنے والا شخص اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں: اپنی ذات کا امین ہوتا ہے)، اگر تم چاہو، تو روزہ رکھ لو، اگر چاہو، تو یہ کھا پی لو۔“