حدیث نمبر: 2211
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ ، قَالَ : فَقَدِمْتُ الشَّامَ ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ ، فَرَأَيْتُ الْهِلالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلالَ ، فَقَالَ : " مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلالَ ؟ " ، فَقُلْتُ : رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ : " أَنْتَ رَأَيْتَهُ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ : " لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاثِينَ أَوْ نَرَاهُ " ، فَقُلْتُ : أَوَلا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ ؟ قَالَ : " لا ، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین

کریب بیان کرتے ہیں: سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا، وہ فرماتے ہیں: میں شام آیا، سیدہ ام الفضل کا کام پورا کیا، اسی دوران رمضان کا چاند نظر آ گیا، میں شام میں ہی موجود تھا، میں نے جمعے کی رات میں چاند دیکھا، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ آیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بات چیت کی، پھر جب میں نے پہلی کے چاند کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے پوچھا: تم نے پہلی کا چاند کب دیکھا تھا؟ تو میں نے جواب دیا: میں نے اسے جمعہ کی رات میں دیکھا تھا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تم نے خود اسے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں! اور لوگوں نے بھی اسے دیکھا تھا، میں نے روزہ بھی رکھا تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا تھا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم نے تو اسے ہفتے کی رات دیکھا تھا اور ہم مسلسل روزے رکھیں گے، یہاں تک کہ تیس کی تعداد پوری کر لیں یا شوال کا چاند دیکھ لیں۔“ تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا چاند کو دیکھنا اور روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی ہدایت کی ہے۔ یہ روایت مستند ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2211
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1087، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1916، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2432، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2332، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 693، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8301، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2211، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2834، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 480، 481»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح ، سنن الدارقطني: (3 / 127) برقم: (2211)»