حدیث نمبر: 2208
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْكِنْدِيُّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْكُوفَةِ ، ثنا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ الدَّالانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : أَهْلَلْنَا هِلالَ ذِي الْحِجَّةِ قَمَرًا ضَخْمًا ، الْمُقِلُّ يَقُولُ لِلَيْلَتَيْنِ ، وَالْمُكْثِرُ يَقُولُ لِثَلاثٍ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ لَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلَهُ عَنْ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ فَعَدّ لِي مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّا أَهْلَلْنَا قَمَرًا ضَخْمًا ، فَقَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَدَّهُ إِلَى رُؤْيَتِهِ " . هَذَا صَحِيحٌ وَمَا بَعْدَهُ.
محمد محی الدین

ابوبختری بیان کرتے ہیں: ہم نے ذوالحج کا چاند دیکھا، تو وہ ہمیں بڑا لگا، جس شخص نے اس کو کم قرار دیا تھا، اس نے دوسری رات کا چاند کہا اور جو زیادہ بیان کر رہا تھا، اس نے اسے تیسری رات کا چاند کہا، جب ہم مکہ آئے اور ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی، تو ہم نے جب ان سے یہ بیان کیا، تو انہوں نے ہمارے سامنے جو گنتی اس حساب تھی (جس میں ہم نے چاند دیکھا تھا)، میں نے ان سے کہا: ہم نے تو چاند کو بڑا دیکھا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دیکھے جانے کے ساتھ (مہینے کے آغاز کو) مشروط کیا ہے۔“ یہ روایت اور اس کے بعد والی روایت مستند ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2208
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2208، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2228»
«قال الدارقطني: هذا صحيح وما بعده ، سنن الدارقطني: (3 / 126) برقم: (2208)»