حدیث نمبر: 2207
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَرَى هِلالَ رَمَضَانَ وَحْدَهُ : " أَنَّهُ يَصُومُ لأَنَّهُ لا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُفْطِرَ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَمَنْ رَأَى هِلالَ شَوَّالٍ وَحْدَهُ فَلا يُفْطِرُ ، لأَنَّ النَّاسَ يَتَّهِمُونَ عَلَى أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُمْ مَنْ لَيْسَ مَأْمُونًا ، ثُمَّ يَقُولُ أُولَئِكَ إِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ : قَدْ رَأَيْنَا الْهِلالَ " .
محمد محی الدین

امام مالک بیان کرتے ہیں: ”جو شخص اکیلا رمضان کا چاند دیکھ لے، تو اسے روزہ رکھنا چاہیے، کیونکہ اب اس کے لیے روزہ نہ رکھنا ٹھیک نہیں، کیونکہ وہ یہ بات جانتا ہے، یہ دن رمضان کا حصہ ہے، جو شخص اکیلا شوال کا چاند دیکھ لے، وہ روزہ نہ چھوڑے، کیونکہ لوگ اس بارے میں اس پر الزام لگائیں گے کہ اس نے روزہ نہیں رکھا، کیونکہ اس میں سے بعض لوگ وہ بھی ہوتے ہیں، جو مامون نہیں ہوتے۔ پھر وہ یہ بات اس وقت بیان کرے، جب چاند لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے اور وہ یہ کہیں: ہم نے چاند دیکھ لیا ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2207
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2207»