سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ باب: چاند دیکھنے کی گواہی
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا الشَّافِعِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُخْتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ رَجُلا شَهِدَ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَلَى رُؤْيَةِ هِلالِ رَمَضَانَ فَصَامَ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا ، وَقَالَ : " أَصُومُ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ " . قَالَ الشَّافِعِيُّ : فَإِنْ لَمْ تَرَ الْعَامَّةُ هِلالَ رَمَضَانَ وَرَآهُ رَجُلٌ عَدْلٌ ، رَأَيْتُ أَنْ أَقْبَلَهُ لِلأَثَرِ وَالاحْتِيَاطِ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ بَعْدُ : لا يَجُوزُ عَلَى رَمَضَانَ إِلا شَاهِدَانِ . قَالَ الشَّافِعِيُّ : وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا : لا أَقْبَلُ عَلَيْهِ إِلا شَاهِدَيْنِ ، وَهُوَ الْقِيَاسُ عَلَى كُلِّ مَغِيبٍ.فاطمہ بنت حسین بیان کرتی ہیں: ایک شخص نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے سامنے رمضان کا چاند دیکھنے کی گواہی دی، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”میں شعبان کے دن میں روزہ رکھ لوں، یہ میرے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ میں رمضان کے دن میں روزہ نہ رکھوں۔“ امام شافعی فرماتے ہیں: اگر عام لوگوں نے رمضان کا چاند نہ دیکھا ہو اور ایک عادل شخص اسے دیکھ لے، تو میں اس بات کو جائز دوں گا کہ میں اس کی گواہی قبول کر لوں، کیونکہ اثر سے بھی یہ بات منقول ہے اور احتیاط بھی اسی میں ہے، لیکن اس کے بعد امام شافعی نے یہ فتویٰ دیا: رمضان کے لیے کم از کم دو آدمیوں کی گواہی شرط ہے۔ امام شافعی اور ہمارے بعض اصحاب نے یہ بات بیان کی ہے: میں اس بارے میں کم از کم دو آدمیوں کی گواہی قبول کروں گا، قیاس یہی ہے، ہر غائب چیز کے بارے میں گواہی کا یہی حکم ہے۔