حدیث نمبر: 2200
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : " جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ : إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ نَهَارًا فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تُمْسُوا ، إِلا أَنْ يَشْهَدَ رَجُلانِ مُسْلِمَانِ أَنَّهُمَا أَهَلاهُ بِالأَمْسِ عَشِيَّةً " .
محمد محی الدین

ابووائل بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، ہم لوگ اس وقت خانقین میں موجود تھے (اس میں یہ تحریر تھا): ”پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے وقت چاند دیکھ لو، تو شام ہونے تک افطاری کرو، جب تک دو مسلمان اس بات کی گواہی نہ دیں کہ وہ گزشتہ رات چاند دیکھ چکے ہیں (تو تم روزہ توڑ کر عیدالفطر مناؤ)۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2200
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»