سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ باب: چاند دیکھنے کی گواہی
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، وَسَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا : نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ ، قَالَ فِي كِتَابِهِ : " إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ نَهَارًا فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ " . رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، فَقَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالأَمْسِ " . هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى . وَقَدْ تَابَعَ الأَعْمَشُ ، عَنْ مَنْصُورٍ.شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، ہم اس وقت خانقین میں موجود تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خط میں یہ فرمایا تھا: ”چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے وقت چاند دیکھو، تو عیدالفطر اس وقت تک نہ کرو، جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”جب تم دن کے ابتدائی حصے میں پہلی کا چاند دیکھ لو، تو عید اس وقت تک نہ کرو، جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں کہ انہوں نے گزشتہ رات چاند دیکھ لیا تھا۔“ یہ روایت ابن ابولیلیٰ کی روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔