حدیث نمبر: 2196
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، وَسَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا : نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ ، قَالَ فِي كِتَابِهِ : " إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ نَهَارًا فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ " . رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، فَقَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالأَمْسِ " . هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى . وَقَدْ تَابَعَ الأَعْمَشُ ، عَنْ مَنْصُورٍ.
محمد محی الدین

شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، ہم اس وقت خانقین میں موجود تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خط میں یہ فرمایا تھا: ”چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے وقت چاند دیکھو، تو عیدالفطر اس وقت تک نہ کرو، جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”جب تم دن کے ابتدائی حصے میں پہلی کا چاند دیکھ لو، تو عید اس وقت تک نہ کرو، جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں کہ انہوں نے گزشتہ رات چاند دیکھ لیا تھا۔“ یہ روایت ابن ابولیلیٰ کی روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2196
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»