حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، " أَنَّ عُمَرَ أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فِي رُؤْيَةِ الْهِلالِ فِي فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى " . كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَعَبْدُ الأَعْلَى ضَعِيفٌ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ ، وَخَالَفَهُ أَبُو وَائِلٍ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، فَرَوَاهُ عَنْ عُمَرَ ، أنَّهُ قَالَ : " لا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ " ، حَدَّثَ بِهِ الأَعْمَشُ ، وَمَنْصُورٌ عَنْهُ.
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی کا چاند دیکھنے کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی گواہی کو قبول کیا تھا۔ عبدالاعلیٰ نامی راوی نے ابن ابولیلیٰ کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا ہے، لیکن عبدالاعلیٰ نامی راوی ضعیف ہے، اسی طرح ابن ابولیلیٰ نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ ابووائل، شقیق بن سلمہ نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم لوگ روزے رکھنا اس وقت تک بند نہ کرو، جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں (کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے)۔“ اس روایت کو اعمش نے اور ان کے حوالے سے منصور نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2195
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث « إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8291، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2195، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7343، 15455، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9558»
«قال الدارقطني: كذا روى عبد الأعلى عن ابن أبي ليلى وعبد الأعلى ضعيف وابن أبي ليلى لم يدرك عمر وخالفه أبو وائل شقيق بن سلمة فرواه عن عمر أنه قال لا تفطروا حتى يشهد شاهدان حدث به الأعمش ومنصور عنه ، سنن الدارقطني: (3 / 120) برقم: (2195)»