حدیث نمبر: 219
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّهْمِيُّ ، نا مَالِكٌ ، وَثنا الْحُسَيْنُ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، نا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدٍ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ ، دَخَلَ فَسَكَبْتُ لَهُ وُضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ لِتَشْرَبَ مِنْهُ ، فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ ، قَالَ : فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، قَالَ : أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ " .
محمد محی الدین

سیدہ کبشہ بنت کعب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے کی اہلیہ تھیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوئے تو اس خاتون نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا۔ اس دوران ایک بلی آئی تاکہ وہ اس میں سے پانی پی لے تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن اس کی طرف انڈیل دیا، اس بلی نے پانی پی لیا۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا کہ میں ان کی طرف بڑے غور سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے دریافت کیا: ”اے میری بھتیجی! کیا تم اس بات پر حیران ہو رہی ہو؟“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: یہ (بلی) ناپاک نہیں ہے، بلکہ یہ تمہارے ہاں آنے جانے والے (پالتو) جانوروں میں سے ایک ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 219
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 61 ، وابن الجارود فى "المنتقى"، 67، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 103، 104، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1299، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 571، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 68، برقم: 339، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 63، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 75، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 92، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 763، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 367، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1179، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 434، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 219، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22964»