حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، وَأَخُوهُ أَبُو عُبَيْدٍ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، ثنا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النُّعْمَانِ السَّخِيمِيُّ ، قَالَ : أَتَانِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ فِي رَمَضَانَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ بَعْدَمَا رَفَعْتُ يَدِي مِنَ السَّحُورِ لِخَوْفِ الصُّبْحِ فَطَلَبَ مِنِّي بَعْضَ الإِدَامِ ، فَقُلْتُ : أَيَا عَمَّاهُ لَوْ كَانَ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّيْلِ شَيْءٌ لأُدْخِلَنَّكَ إِلَى طَعَامٍ عِنْدِي وَشَرَابٍ ، قَالَ : عِنْدَكَ ، فَدَخَلَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ ثَرِيدًا وَلَحْمًا وَنَبِيذًا ، فَأَكَلَ وَشَرِبَ وَأَكْرَهَنِي ، فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ وَإِنِّي لَوَجِلٌ مِنَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلا يَغُرَّنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ ، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْرِضَ لَكُمُ الأَحْمَرُ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ . قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.عبداللہ بن نعمان بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ رمضان کے مہینے میں رات کے آخری حصے میں سیدنا قیس بن طلق رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، اس وقت صبح کے خوف کی وجہ سے سحری کھانا بند کیا جا چکا تھا، انہوں نے مجھ سے سالن مانگا، میں نے کہا: اے چچا جان! اگر رات کا ابھی کچھ حصہ باقی ہے، تو میں آپ کو کھانے اور پینے کا سامان دیتا ہوں، انہوں نے فرمایا: تمہارے پاس ہے؟ پھر وہ اندر تشریف لے آئے، تو میں نے سامنے (ثریر) گوشت اور نبیذ دیے، انہوں نے انہیں کھا بھی لیا اور پی بھی لیا اور مجھے بھی مجبور کیا، تو میں نے بھی کھا اور پی لیا اور مجھے صبح ہو جانے کا اندیشہ تھا، پھر سیدنا قیس بن طلق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے: ”تم لوگ (سحری میں) کھاتے پیتے رہو اور لمبائی کی سمت میں پھیلنے والی روشنی تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے، تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو، جب تک سرخی چوڑائی کی سمت میں تمہارے سامنے نہیں پھیل جاتی۔“ راوی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات بیان کی، اس کے راوی قیس بن طلق مستند نہیں ہیں۔