حدیث نمبر: 2186
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي حِجْرِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، فَصَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : " اخْرُجْ فَانْظُرْ هَلْ طَلَعَ الْفَجْرُ ؟ " ، قَالَ : فَخَرَجْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَقُلْتُ : قَدِ ارْتَفَعَ فِي السَّمَاءِ أَبْيَضُ ، فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : " اخْرُجْ فَانْظُرْ هَلْ طَلَعَ الْفَجْرُ ؟ " ، فَخَرَجْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَقُلْتُ : لَقَدِ اعْتَرَضَ فِي السَّمَاءِ أَحْمَرُ ، فَقَالَ : " هَيْتَ الآنَ ، فَأَبْلِغْنِي سُحُورِي " .
محمد محی الدین

سالم بن ابوعبید بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زیر تربیت تھا، ایک رات انہوں نے جتنا اللہ کو منظور تھا، اتنی دیر نماز ادا کی، پھر فرمایا: صبح صادق ہو گئی ہے؟ سالم بیان کرتے ہیں: میں باہر آیا اور واپس آ کر بتایا: آسمان میں سفیدی اوپر کی طرف جا رہی ہے (لمبائی کی سمت میں ہے)، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جتنا اللہ کو منظور تھا، اتنی دیر نوافل ادا کیے، پھر فرمایا: جاؤ جا کر دیکھو، کیا صبح صادق ہو گئی ہے؟ میں پھر آیا اور آ کر جواب دیا کہ آسمان میں چوڑائی کی سمت میں سرخی پھیل گئی ہے، تو انہوں نے فرمایا: ہاں! اب وقت ہو گیا ہے، میرا سحری کا کھانا لے آؤ۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2186
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2186، 2187»
«قال ابن حجر: إسناد صحيح ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (4 / 161)»