حدیث نمبر: 2177
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، نا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَلا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ ، فِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ ، وَأُضْحِيَتُكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ مَنْحَرٌ " . رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ وَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”مہینہ بعض اوقات انتیس دن کا بھی ہوتا ہے، اس لیے تم روزے رکھنا اس وقت تک شروع نہ کر لو، جب تک تم چاند دیکھ نہ لو اور روزے رکھنا اس وقت تک بند نہ کرو، جب تک اسے نہ دیکھ لو اور اگر بادل چھائے ہوں، تو تیس کی تعداد پوری کر لو، تمہاری عیدالفطر اس دن ہو گی، جب سب لوگ عیدالفطر کریں گے اور عیدالاضحی اس دن ہو گی، جب سب لوگ عیدالاضحی کریں گے، عرفہ سارے کا سارا وقوف کرنے کی جگہ ہے، منی سارے کا سارا قربانی کرنے کی جگہ ہے اور مکہ کی ہر گلی قربانی کرنے کی جگہ ہے۔“ حماد بن زید نے اس روایت کو ایوب کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2177
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1909، 1914، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1081، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1908، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3442، 3443، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1553، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2119 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2324، 2335، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 684، 685، 687، 697، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1727، 1731، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1646، 1650، 1654، 1660، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2160، 2161، 2162، 2163، 2164، 2173، 2174، 2177، 2178، 2179، 2180، 2181، 2445، 2446، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7320»
«قال ابن حجر: وابن المنكدر لم يسمع من أبي هريرة ، التلخيص الحبير في تخريج أح