حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسَ ، ثنا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ ، يَقُولُ : أَهْلَلْنَا هِلالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ الشُّقُوقِ ، فَشَكَكْنَا فِي الْهِلالِ ، فَبَعَثْنَا رَجُلا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ ، وَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلاثِينَ " . صَحِيحٌ عَنْ شُعْبَةَ . وَرَوَاهُ حُصَيْنٌ ، وَأَبُو خَالِدٍ الدَّالانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ : عِدَّةَ شَعْبَانَ غَيْرُ آدَمَ وَهُوَ ثِقَةٌ.ابوبختری بیان کرتے ہیں: ہمیں ذات شقوق کے مقام پر عید کا چاند نظر آیا، ہمیں اس بارے میں شک ہوا، کیا پہلی کا چاند ہے یا دوسری یا تیسری تاریخ کا ہے، تو ہم نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو چاند دیکھنے کے ساتھ متعلق کیا ہے، اگر تم پر بادل چھائے ہوں، تو شعبان مہینے کی تیس کی تعداد پوری کر لو۔“ یہ روایت شعبہ سے منقول ہونے کے حوالے سے مستند ہے، دیگر راویوں نے اسے عمرو بن مرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے، صرف آدم نامی راوی نے اس حدیث میں ”شعبان کی تعداد“ کے الفاظ نقل کیے ہیں اور یہ راوی ثقہ ہے۔