حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرْشِدٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَلا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " . زَادَ ابْنُ مُرْشِدٍ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا مَضَى شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَبْعَثُ مِنْ يَنْظُرُ ، فَإِنْ رَأَى فَذَاكَ ، وَإِنْ لَمْ يَرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ ، وَلا قَتَرٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا ، وَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرٌ أَصْبَحَ صَائِمًا ، قَالَ : وَكَانَ لا يُفْطِرُ إِلا مَعَ النَّاسِ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”(مہینہ) بعض اوقات انتیس دن کا بھی ہوتا ہے، تم اس وقت تک روزہ رکھنا نہ شروع کرو، جب تک اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھ نہیں لیتے اور اس وقت تک روزے رکھنا بند نہ کرو، جب تک اسے یعنی (شوال کے) چاند کو نہیں دیکھ لیتے، اگر بادل چھائے ہوں، تو اس کی گنتی پوری کر لو۔“ (ابن مرشد نامی راوی نے یہ بات اضافی نقل کی ہے، نافع بیان کرتے ہیں) جب شعبان کے انتیس دن گزر جاتے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی سے کہتے جو چاند نظر آنے کا جائزہ لے، اگر نظر آ جاتا، تو ٹھیک، اگر نظر نہ آتا، تو اس دوران چاند کو دیکھنے میں کوئی بادل یا غبار حائل نہ ہوتا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اگلے دن روزہ نہیں رکھتے تھے اور اگر (چاند نظر نہ آتا) اور اسے دیکھنے میں غبار یا بادل حائل ہوتا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اگلے دن روزہ رکھتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنا ختم کرتے تھے۔