حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي هِلالِ رَمَضَانَ مَرَّةً ، فَأَرَادُوا أَنْ لا يَصُومُوا وَلا يَقُومُوا ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْحَرَّةِ فَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلالَ ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، وَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلالَ ، فَأَمَرَ بِلالا ، فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا ، لَمْ يَقُلْ فِيهِ : حَمَّادٌ.عکرمہ بیان کرتے ہیں: لوگوں کو رمضان کے چاند کے بارے میں شک ہوا، انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اگلے دن روزہ نہیں رکھیں گے اور اس رات تراویح نہیں پڑھیں گے، ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پتھریلی زمین کی طرف سے آیا، اس نے یہ گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھ لیا ہے، تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں! پھر اس نے یہ گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھ لیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں سے کہہ دیں کہ وہ اس دن تراویح بھی پڑھیں (اور اگلے دن روزہ بھی رکھیں)۔ صرف حماد نامی راوی نے تراویح ادا کرنے کا ذکر کیا ہے۔