حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا أَبُو الْعَالِيَةِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ ، ثنا حَازِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : تَمَارَى النَّاسُ فِي هِلالِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ : الْيَوْمَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : غَدًا ، فَجَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَعَمَ أَنَّهُ قَدْ رَآهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلالا فَنَادَى النَّاسَ : صُومُوا ، ثُمَّ قَالَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاثِينَ ثُمَّ أَفْطِرُوا ، وَلا تَصُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا " . تَابَعَهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ ، وَزَائِدَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، مِنْ رِوَايَةَ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى عَنْهُ ، وَقِيلَ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ . وَأَرْسَلَهُ إِسْرَائِيلُ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ . وأَرْسَلَهُ إِسْرَائِيلُ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رمضان کے چاند کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا، بعض نے کہا: آج نظر آ جائے گا، بعض نے کہا: کل نظر آ جائے گا، ایک دیہاتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟“ تو اس نے جواب دیا: جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے درمیان اعلان کر دیں کہ وہ روزہ رکھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے (چاند کو) دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر روزہ رکھنا ختم کر دو۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں، تو تیس دن کی گنتی پوری کرو، روزے رکھنا شروع کرو اور اس سے ایک دن پہلے روزہ نہ رکھو۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے۔ بعض راویوں نے اس روایت کو مرسل روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے۔