حدیث نمبر: 2148
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الأُبُلِّيُّ ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْمَدِينَةَ وَبِهَا ابْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى وَالِيهَا فَشَهِدَ عِنْدَهُ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلالِ هِلالِ رَمَضَانَ ، فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَهَادَتِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يُجِيزَهُ ، وَقَالا : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلالِ هِلالِ رَمَضَانَ " ، قَالا : " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُجِيزُ شَهَادَةَ الإِفْطَارِ إِلا بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ " . تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الأُبُلِّيُّ أَبُو إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین

طاؤس بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں موجود تھا، وہاں سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، ایک شخص وہاں کے گورنر کے پاس آیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی (یعنی رمضان کا چاند دیکھنے کی)، تو گورنر نے سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کی گواہی کے بارے میں دریافت کیا، تو ان دونوں نے کہا: اس کی گواہی کو برقرار رکھا جائے، پھر ان دونوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا چاند دیکھنے کے بارے میں ایک شخص کی گواہی کو قبول کیا تھا، ان دونوں حضرات نے یہ بات بھی بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے چاند کے بارے میں دو آدمیوں کی ہی گواہی قبول کیا کرتے تھے۔ اس روایت کو نقل کرنے میں ابواسماعیل حفص نامی راوی منفرد ہیں اور یہ ضعیف ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2148
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8078، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2148، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9559، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11664، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5353»
«قال الدارقطني: تفرد به حفص بن عمر الأبلي أبو إسماعيل وهو ضعيف الحديث ، سنن الدارقطني: (3 / 97) برقم: (2148)»