سنن الدارقطني
كتاب زكاة الفطر— صدقہ فطر کا بیان
بَابٌ فِي جِزْيَةِ الْمَجُوسِ وَمَا رُوِيَ فِي أَحْكَامِهِمْ باب: مجوسیوں کا جزیہ اور ان کے احکامات کے بارے میں جو روایات منقول ہیں
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَهٍ ، نا الْخَضِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُجَاعٍ ، أنا هُشَيْمٌ ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ قُشَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ بَجَالَةَ ، قَالَ : " لَمْ يَأْخُذْ عُمَرُ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ ، حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ مِنْهُمْ " . قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنْتُ جَالِسًا بِبَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلانِ مِنْهُمْ ، ثُمَّ خَرَجَا ، فَقُلْتُ : مَاذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالا : " الإِسْلامُ أَوِ الْقَتْلُ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَأَخَذَ النَّاسُ بِقَوْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَتَرَكُوا قُولِي.بجالہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پہلے مجوسیوں سے جزیہ وصول نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے: ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا، دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر وہ دونوں باہر نکل آئے، تو میں نے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے بارے میں کیا فیصلہ دیا ہے؟ تو ان دونوں نے بتایا (یہ فیصلہ دیا ہے): ”یا ہم اسلام قبول کر لیں یا قتل ہو جائیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: تو لوگوں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیان کو اختیار کر لیا اور میری روایت کو ترک کر دیا۔