حدیث نمبر: 2130
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْخَضِرِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثنا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ فِي آخِرِ الشَّهْرِ : " أَخْرِجُوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ " ، فَنَظَرَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ : " مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ؟ قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ ، فَإِنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ أَنَّ هَذِهِ الزَّكَاةَ فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ ذَكَرٍ وَأُنْثَى ، حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ ، صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ ، أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ " .
محمد محی الدین

حسن بصری بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جب بصرہ کے گورنر تھے، تو انہوں نے رمضان کے آخر میں یہ فرمایا: اپنے روزوں کی زکوٰۃ (صدقہ فطر) ادا کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کر دیا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یہاں اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے افراد کون ہیں؟ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں! اور اپنے ساتھیوں کو اس کے بارے میں بتائیں، کیونکہ یہ لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ یہ وہ ادائیگی ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مذکر اور مونث، آزاد اور غلام پر لازم قرار دی ہے، جو جو کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع ہو گا، یا پھر گندم کا نصف صاع ہو گا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة الفطر / حدیث: 2130
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1581، 2510، 2517، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1815،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1622، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7806، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2087، 2119، 2130، 2131، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2046»
«قال ا النسائي : الحسن لم يسمع من ابن عباس ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 417)»