حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو الأَشْعَثِ ، ثنا الثَّقَفِيُّ ، ثنا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُمِرْنَا أَنْ تُعْطَى صَدَقَةُ رَمَضَانَ عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، مَنْ أَدَّى بُرًّا قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ أَدَّى شَعِيرًا قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ أَدَّى زَبِيبًا قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ أَدَّى سُلْتًا قُبِلَ مِنْهُ " ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : " وَمَنْ أَدَّى دَقِيقًا قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ أَدَّى سَوِيقًا قُبِلَ مِنْهُ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے، ہم ہر چھوٹے بڑے، آزاد غلام کی طرف سے رمضان کا صدقہ (یعنی صدقہ فطر) اناج کا ایک صاع ادا کریں، جو شخص گندم ادا کرے گا، تو وہ اس کی طرف سے قبول کی جائے گی، جو شخص جو ادا کرے، تو وہ اس کی طرف سے قبول کیا جائے گا، جو شخص کشمش ادا کرے گا، وہ اس کی طرف سے قبول کی جائے گی، جو شخص گندم ادا کرے گا، وہ اس کی طرف سے قبول کی جائے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”جو شخص آٹا ادا کرے گا، وہ اس کی طرف سے قبول کیا جائے گا اور جو شخص ستو ادا کرے گا، وہ اس کی طرف سے قبول کیا جائے گا۔“