حدیث نمبر: 2067
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَتِيقٍ الْعَنْسِيُّ ، بِدِمَشْقَ ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، ثنا أَبُو يَزِيدَ الْخَوْلانِيُّ ، ثنا سَيَّارُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّدَفِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَكَاةُ الْفِطْرِ طُهْرَةٌ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةٌ لِلْمَسَاكِينِ ، مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ " . لَيْسَ فِيهِمْ مَجْرُوحٌ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”صدقہ فطر روزہ دار خاص کے لیے لغو اور رفث سے پاکیزگی کا باعث ہوتا ہے اور غریب آدمی کو کھانے کے طور پر مل جاتا ہے، جو شخص اسے نماز سے پہلے ادا کر دے گا، تو یہ مقبول صدقہ ہو گا اور جو شخص اسے نماز کے بعد ادا کرے گا، تو یہ عام صدقہ ہے۔“ اس روایت کے راویوں میں کوئی بھی مجروح نہیں ہے۔