حدیث نمبر: 2064
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي أَبُو يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ أَتَوْا عُمَرَ ، فَقَالُوا : إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالا وَخَيْلا وَرَقِيقًا ، وَإِنَّا نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهِ زَكَاةٌ وَطَهُورٌ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ فَأَفْعَلُهُ " ، قَالَ إِسْحَاقُ : " مَا فَعَلَهُ مَنْ كَانَ قَبْلِي فَأَفْعَلُهُ " ، فَاسْتَشَارَ النَّاسَ ، فَكَانَ فِيمَنِ اسْتَشَارَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةٌ يُؤْخَذُ بِهَا مَنْ بَعْدَكَ " . قَالَ إِسْحَاقُ : إِنْ لَمْ يَكُنْ مَرْتَبَةً لِمَنْ بَعْدَكَ فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ فَرَسٍ دِينَارًا .
محمد محی الدین

سیدنا حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: شام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے بتایا: ہمیں کچھ اموال، گھوڑے اور غلام حاصل ہوئے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں، ان میں سے زکوٰۃ کریں تا کہ یہ پاک ہو جائیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے دونوں آقاؤں نے جو کیا ہے، میں ویسا ہی کروں گا۔“ اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”مجھ سے پہلے نے جو کیا ہے، میں بھی ویسا ہی کروں گا۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس بارے میں مشورہ کیا، جن لوگوں سے مشورہ کیا، ان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، انہوں نے فرمایا: ”یہ ٹھیک ہے، اگر اسے ایسا جزیہ نہ بنایا جائے، جو آپ کے بعد بھی وصول کیا جائے۔“ اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اگر اسے اس ترتیب کے ساتھ نہ رکھا جائے کہ آپ کے بعد والا بھی اسے وصول کرے (تو یہ ٹھیک ہے)۔“ (راوی کہتے ہیں) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑے کی طرف سے ایک دینار کی ادائیگی لازمی قرار دی۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2064
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2290، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 107، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1460، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7508، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2064، 2021، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 83، 223، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 3045»