سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْحَثِّ عَلَى إِخْرَاجِ الصَّدَقَةِ وَبَيَانِ قِسْمَتِهَا باب: صدقہ دینے کی ترغیب اور اس کی تقسیم کا طریقہ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْرِ بْنِ بُجَيْرٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغَوِيُّ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ ، قَالا : نا وَكِيعٌ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِنْ هُمْ قَدْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لا تُحْجَبُ " . وَقَالَ يَعْقُوبُ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ : " فَإِنَّهَا لَيْسَتْ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو ارشاد فرمایا: ”تم اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو، تم انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ اس بات میں تمہاری اطاعت کر لیں، تو تم انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اس بارے میں بھی تمہاری اطاعت کر لیں، تو تم انہیں بتاؤ کہ اللہ نے ان کے اموال میں ان پر زکوٰۃ لازم کی ہے، جو ان کے خوشحال لوگوں سے لے کر غریب لوگوں کو دے دی جائے گی، اگر وہ اس بارے میں بھی تمہاری بات مان لیں، تو لوگوں کے اچھے اموال وصول کرنے سے بچنا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا، کیونکہ اس کے (اور اللہ تعالیٰ کے درمیان) کوئی حجاب نہیں ہوتا۔“