سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْحَثِّ عَلَى إِخْرَاجِ الصَّدَقَةِ وَبَيَانِ قِسْمَتِهَا باب: صدقہ دینے کی ترغیب اور اس کی تقسیم کا طریقہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ، قَالَ : " لَئِنْ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَكُفَّ الرَّقَبَةِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوَلَيْسَا وَاحِدًا ؟ فَقَالَ : " لا عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا ، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا ، وَالْمَنِحَةُ الْوَكُوفُ ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلا مِنْ خَيْرٍ " .سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کریں، جو مجھے جنت سے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم کلام مختصر کرو، تو مانگنے سے گریز کرو، غلام کو آزاد کرو، گردن کو چھڑا دو (غلام یا کنیز کو آزاد کر دو)۔“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ دونوں ایک ہی نہیں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں! جان کو آزاد کرنے کا مطلب یہ ہے، تم اسے آزاد کر دو اور گردن کو چھڑانے کا مطلب یہ ہے، تم اس کی قیمت کی ادائیگی میں اس کی مدد کرو، زیادہ دودھ دینے والی (اونٹنی یا بکری کو) کسی معاوضے کے بغیر دے دو اور زیادتی کرنے والے رشتہ دار کے ساتھ تعلق برقرار رکھو، اگر تم یہ نہیں کر سکتے، تو اپنی زبان سے صرف بھلائی کی بات کہو۔“