سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ فِي قَدْرِ الصَّدَقَةِ فِيمَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ وَخَرَصَ الثِّمَارُ باب: زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ خَارِصًا فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا حَثْمَةَ قَدْ زَادَ عَلَيَّ فِي الْخَرْصِ ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ ابْنَ عَمِّكَ يَزْعُمُ أَنَّكَ زِدْتَ عَلَيْهِ فِي الْخَرْصِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ تَرَكْتُ لَهُ قَدْرَ خُرْفَةِ أَهْلِهِ وَمَا يُطْعِمُ الْمَسَاكِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ زَادَكَ ابْنُ عَمِّكَ وَأَنْصَفَ " .سیدنا سہل بن حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندازہ لگانے کے لیے بھیجا، ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ابوحثمہ نے اندازہ لگاتے ہوئے ہماری طرف زیادہ ادائیگی لازم کر دی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا: ”تمہارے چچا زاد کا یہ کہنا ہے، تم نے اندازہ لگانے میں اس پر زیادہ ادائیگی لازم کر دی ہے۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کی کہ: ”یا رسول اللہ! میں نے اس کے لیے اتنی کھجوریں زیادہ چھوڑی ہیں، یہ اپنے گھر والوں کو بھی کھلا سکے اور مسکینوں کو بھی کھلا سکے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے چچا زاد نے تمہیں زیادہ چھوٹ دی ہے اور انصاف سے کام لیا ہے۔“