سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ فِي قَدْرِ الصَّدَقَةِ فِيمَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ وَخَرَصَ الثِّمَارُ باب: زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ ، وَقَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِابْنِ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ تَطِيبُ أَوَّلَ التَّمْرَةِ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهَا ، ثُمَّ يُخْبِرُ يَهُودَ يَأْخُذُونَهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَوْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتَفَرَّقَ " . رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَأَرْسَلَهُ مَالِكٌ ، وَمَعْمَرٌ ، وَعَقِيلٌ ، وأَرْسَلَهُ مَالِكٌ ، وَمَعْمَرٌ ، وَعَقِيلٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُرْسَلا .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مرتبہ خیبر کے بارے میں ذکر کر رہی تھیں، انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی طرف بھیجا، جب پھل تیار ہو گیا، تو انہوں نے کھجوروں کے درختوں کی پیداوار کا اندازہ لگایا، پھر انہوں نے یہودیوں کو اختیار دیا کہ وہ اس اندازے کے حساب سے وصولی کر لیں یا اس اندازے کے حساب سے انہیں ادائیگی کر دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگانے کا حکم دیا تھا تا کہ زکوٰۃ کی گنتی پھل کے تیار ہونے سے پہلے کر لی جائے اور اسے الگ کر دیا جائے۔ یہی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، امام مالک نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔