نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ ، وبَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالا : نا أَبُو عَاصِمٍ ، نا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَهُورُ الإِنَاءِ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ يُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، الأُولَى بِالتُّرَابِ وَالْهِرُّ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ " . قُرَّةُ يَشُكُّ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : كَذَا رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ مَرْفُوعًا . ورَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ قُرَّةَ وُلُوغُ الْكَلْبِ مَرْفُوعًا ، وَوُلُوغُ الْهِرِّ مَوْقُوفًا.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی برتن میں کوئی کتا منہ ڈال دے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے، اسے سات مرتبہ دھولیا جائے، اور پہلی مرتبہ اسے مٹی کے ذریعے صاف کیا جائے، اور بلی کے بارے میں حکم یہ ہے، اسے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دھولیا جائے۔“ یہ شک قرہ نامی راوی کو ہے۔ ابوبکر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: ابوعاصم نامی راوی نے اس روایت کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے کتے کے بارے میں حکم کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے اور بلی کے منہ ڈالنے کے حکم کو ”موقوف“ روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔