سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ فِي قَدْرِ الصَّدَقَةِ فِيمَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ وَخَرَصَ الثِّمَارُ باب: زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
حدیث نمبر: 2042
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ الْيَحْصِبِيُّ ، أنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، فِي هَذِهِ الآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ : " وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267 ، قَالَ : هُوَ الْجُعْرُورُ وَلَوْنُ ابْنِ حُبَيْقٍ ، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلَهُمَا فِي الصَّدَقَةِ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اور تم اس میں سے گھٹیا چیز کا ارادہ نہ کرو کہ تم اسے خرچ کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس سے مراد جعرور اور لون بن حبیق ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ میں انہیں وصول کرنے سے منع کر دیا تھا۔