سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ فِي قَدْرِ الصَّدَقَةِ فِيمَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ وَخَرَصَ الثِّمَارُ باب: زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا السَّخْلِ بِكَبَائِسَ ، قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي الشِّيصَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَاءَ بِهَذَا ؟ " ، وَكَانَ لا يَجِيءُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ إِلا نُسِبَ إِلَى الَّذِي جَاءَ بِهِ ، فنزلت : وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267 ، قَالَ : " وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُعْرُورِ ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ أَنْ يُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : لَوْنَيْنِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ ، وَقَالَ يُوسُفُ : إِلا نَسَبُوهُ.سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے بارے میں حکم دیا، تو ایک شخص کچی کھجوریں لے آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کون لے کر آیا ہے؟“ (راوی بیان کرتے ہیں) جو شخص جو بھی چیز لے کر آتا تھا، وہ چیز اسی شخص کی طرف منسوب کی جاتی تھی جو اسے لے کر آتا تھا۔ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”اور تم اس میں سے گھٹیا چیز کا ارادہ نہ کرو کہ تم اسے خرچ کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ زکوٰۃ میں جعرور اور لون المحبیق کو وصول کیا جائے۔ امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ مدینہ منورہ کی دو مخصوص قسم کی کھجوریں ہیں۔ روایت میں یوسف رحمہ اللہ نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے۔