سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ فِي قَدْرِ الصَّدَقَةِ فِيمَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ وَخَرَصَ الثِّمَارُ باب: زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثنا مُحَمَّدُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ مَعَافِرَ وَهَمْدَانَ : " إِنَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ صَدَقَةَ الثِّمَارِ عُشْرُ مَا سَقَى الْعَيْنُ وَسَقَتِ السَّمَاءُ ، وَعَلَى مَا سَقَى الْغَرْبُ نِصْفُ الْعُشْرِ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو خط لکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حارث عبدکلال اور یمن میں رہنے والے ان کے دیگر ساتھیوں کو، جن کا تعلق معافر اور ہمدان سے تھا، یہ خط میں لکھا تھا: ”اہل زمین (پیداوار) کی زکوٰۃ لازم ہو گی، جو چشمے کے ذریعے اور آسمانی پانی کے ذریعے سیراب ہونے والی زمین میں سے دسویں حصے کی ادائیگی لازم ہو گی اور ڈول (یعنی مصنوعی طریقے سے) سیراب ہونے والی زمین (کی پیداوار میں سے) بیسویں حصے کی ادائیگی لازم ہو گی۔“