سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ فِي قَدْرِ الصَّدَقَةِ فِيمَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ وَخَرَصَ الثِّمَارُ باب: زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
حدیث نمبر: 2032
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، ثنا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ وَمَا كَانَ عَثْرِيًّا الْعُشْرَ ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ ".محمد محی الدین
سالم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعل (پانی کے قریب موجود درخت کے زیر زمین سیراب ہونے)، آسمان، نہر، چشمے کے ذریعے سیراب ہونے والی (زمین کی پیداوار کے) دسویں حصے کی ادائیگی کو مقرر کیا ہے اور جسے مصنوعی طریقے سے سیراب کیا جاتا ہے، اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی۔