سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ فِي قَدْرِ الصَّدَقَةِ فِيمَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ وَخَرَصَ الثِّمَارُ باب: زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
حدیث نمبر: 2031
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا كَانَ بَعْلا أَوْ سَيْلا أَوْ عَثْرِيًّا فَفِي كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدَةٌ " .محمد محی الدین
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: آسمان (یعنی بارش)، نہر اور چشمے کے ذریعے سیراب ہونے والی زمین میں اور جو زمین عثری (یعنی قدرتی طریقے سے سیراب ہوتی ہو) اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشر (یعنی پیداوار کے دسویں حصے کی ادائیگی) مقرر کی ہے اور جسے (مصنوعی طریقے سے) سیراب کیا جاتا ہے، اس میں نصف عشر (یعنی بیسویں حصے کی ادائیگی) مقرر کی ہے۔