سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ زَكَاةِ مَالِ التِّجَارَةِ وَسُقُوطِهَا عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ باب: تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالُوا : إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالا خَيْلا وَرَقِيقًا ، نُحِبُّ أَنْ تَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي فَأَفْعَلُهُ " ، فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِمْ عَلِيُّ ، فَقَالَ : " هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا مِنْ بَعْدَكِ رَاتِبَةً " .حارثہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: شام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے بتایا: ہمیں کچھ اموال حاصل ہوئے ہیں، جو گھوڑے ہیں اور غلام ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں، ان میں سے بھی ہم سے زکوٰۃ وصول کی جائے، تاکہ یہ پاک ہو جائیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے میرے دو آقاؤں نے جو کام نہیں کیا، میں وہ کروں گا۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے یہ مشورہ لیا، ان اصحاب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ٹھیک ہے، اگر اسے ایسا جزیہ قرار نہ دیا جائے، جو آپ کے بعد بھی ان سے وصول کیا جاتا رہے۔“