سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ زَكَاةِ مَالِ التِّجَارَةِ وَسُقُوطِهَا عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ باب: تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الشُّونِيزِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ أَتَوْا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالُوا : إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا كُرَاعًا وَرَقِيقًا ، وَإِنَّا نُحِبُّ أَنْ نُزَكِّيَهُ ، قَالَ : " مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي وَلا أَفْعَلُهُ حَتَّى أَسْتَشِيرَ ، فَشَاوَرَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَقَالُوا : أَحْسَنُ ، وَسَكَتَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : " أَلا تَكَلَّمُ يَا أَبَا الْحَسَنِ ؟ " ، فَقَالَ : " قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ وَهُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً رَاتِبَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا بَعْدَكَ ، قَالَ : فَأَخَذَ مِنَ الرَّقِيقِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ ، وَرَزَقَهُمْ جَرِيبَيْنِ مِنْ بُرٍّ كُلَّ شَهْرٍ ، وَأَخَذَ مِنَ الْفَرَسِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ ، وَرَزَقَهُ عَشَرَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ ، وَأَخَذَ مِنَ الْمَقَارِيفِ ثَمَانِيَةَ دَرَاهِمَ وَرَزَقَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ ، وَأَخَذَ مِنَ الْبَرَاذِينَ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَرَزَقَهَا خَمْسَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ " . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا جِزْيَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَعْطِيَاتِنَا زَمَانَ الْحَجَّاجِ وَمَا نُرْزَقُ عَلَيْهَا . قَالَ الشَّيْخُ : الْمُقَرَّفُ مِنَ الْخَيْلِ : دُونَ الْجَوَادِ.حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں: مصر سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے بتایا: ہمیں کچھ زمین اور کچھ غلام ملے ہیں، ہم چاہتے ہیں، ان کی زکوٰۃ ادا کر دیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے میرے دو آقاؤں نے جو عمل نہیں کیا، میں بھی وہ اس وقت تک نہیں کروں گا، جب تک اس بارے میں مشورہ نہ لوں۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے اس بارے میں مشورہ لیا، تو ان سب نے اسے ٹھیک قرار دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاموش رہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابوالحسن! آپ کوئی بات کیوں نہیں کر رہے؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بولے: ”ان حضرات نے آپ کو جو مشورہ دیا ہے، یہ ٹھیک ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ ایسا ٹیکس نہ ہو، جو آپ کے بعد بھی انہیں ادا کرنا پڑے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام کی طرف سے ١٠ درہم وصول کیے اور انہیں گندم کے دو جریب ماہانہ خوراک کی فراہمی لازم قرار دی، گھوڑے کی طرف سے ١٠ درہم وصول کیے اور اسے جو کے دس جریب ماہانہ خوراک کی فراہمی لازم قرار دی، عام گھوڑے کی طرف سے ٨ درہم وصول کیے اور اسے ٨ جریب جو ماہانہ خوراک کی ادائیگی لازم قرار دی، خچر کی طرف سے ٥ درہم وصول کیے اور اسے ٥ جریب جو ماہانہ خوراک کے طور پر دینا لازم قرار دیا۔ ابواسحاق نامی راوی کہتے ہیں: حجاج کے زمانے میں ہم سے یہ وصول کر لی جاتی تھی، مگر ہمارے حصے کی ادائیگی نہیں کی جاتی تھی، شیخ (امام دارقطنی) فرماتے ہیں: ”مقرف“ وہ گھوڑا ہوتا ہے، جو تیز رفتار گھوڑے سے کم رفتار ہی چلتا ہے۔