سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ تَعْجِيلِ الصَّدَقَةِ قَبْلَ الْحَوْلِ باب: ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
حدیث نمبر: 2014
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عُمَرَ سَاعِيًا ، فَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَبَّاسِ شَيْءٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ إِنَّ الْعَبَّاسَ أَسْلَفْنَا صَدَقَةَ الْعَامِ عَامِ الأَوَّلِ " .محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور دوران اس کے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ کچھ تکرار ہو گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے، سیدنا عباس نے اس سال کی زکوٰۃ گزشتہ سال ہمیں پہلے ہی دے دی تھی۔“