سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ تَعْجِيلِ الصَّدَقَةِ قَبْلَ الْحَوْلِ باب: ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، قَالا : نا أَبُو خُرَاسَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَقَالَ الْمَطِيرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَرَجَعَ وَهُوَ يَشْكُو الْعَبَّاسَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ مَنَعَنِي صَدَقَتَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُمَرُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ إِنَّ الْعَبَّاسَ أَسْلَفْنَا صَدَقَةَ عَامَيْنِ فِي عَامِ " . كَذَا قَالَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَإِنَّمَا أَرَادَ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، وہ واپس آئے، تو انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا شکوہ کیا اور بتایا: انہوں نے اپنی زکوٰۃ مجھے ادا نہیں کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے دو سال کی زکوٰۃ پہلے ہی ایک ساتھ ادا کر دی تھی۔“ راوی نے دوسرے راوی کا نام عبید اللہ بن عمر نقل کیا ہے، لیکن ان کی مراد یہ تھی کہ یہ روایت محمد بن عبید اللہ سے منقول ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔