سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ تَعْجِيلِ الصَّدَقَةِ قَبْلَ الْحَوْلِ باب: ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
حدیث نمبر: 2011
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ ، ثنا وَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا عُمَرُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ إِنَّا كُنَّا احْتَجْنَا إِلَى مَالٍ فَتَعَجَّلْنَا مِنَ الْعَبَّاسِ صَدَقَةَ مَالِهِ لِسَنَتَيْنِ " . اخْتَلَفُوا عَنِ الْحَكَمِ فِي إِسْنَادِهِ ، وَالصَّحِيحُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ مُرْسَلٌ.محمد محی الدین
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے، ہمیں اس وقت کچھ مال کی ضرورت تھی، تو ہم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے مال کی زکوٰۃ دو سال پہلے ہی وصول کر لی تھی۔“ اس روایت کی سند میں حکم نامی راوی سے اختلاف کیا گیا ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ روایت حسن بن مسلم نامی راوی سے مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔