سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ تَعْجِيلِ الصَّدَقَةِ قَبْلَ الْحَوْلِ باب: ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْدَلِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، ثنا شَبَابَةُ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، ثنا شَبَابَةُ ، ثنا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلا أَنْ يَكُونَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا وَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثَالُهَا مَعَهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ أَوْ صِنْوُ الأَبِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، تو ابن جمیل، خالد بن ولید اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا (جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابن جمیل نے یہ حرکت اس لیے کی ہے، پہلے وہ غریب تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے خوشحال کر دیا ہے، جہاں تک خالد کا تعلق ہے، تو تم نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے، کیونکہ اس نے اپنی زرہیں اور ساز و سامان پہلے ہی اللہ کی راہ میں وقف کر دیے ہوئے ہیں، جہاں تک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے، تو وہ اللہ کے رسول کے چچا ہیں، ان کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اور اس کے ساتھ مزید اتنی ہی ادائیگی ہو گی۔“ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تمہیں پتا نہیں ہے، آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے۔“