حدیث نمبر: 2006
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ ، فَقِيلَ لَهُ : مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا نَقَمَ ابْنُ جَمِيلٍ إِلا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا ، فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا وَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ ، وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا هِيَ لَهُ " .
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس بن عبدالمطلب نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کر دیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جمیل کا قصور یہ ہے، وہ غریب تھا، اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول نے اسے غنی کر دیا، خالد کا جہاں تک تعلق ہے، تو تم لوگوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے، کیونکہ اس نے تمام زرہیں اور اپنا تمام تر ساز و سامان اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے وقف کر دیا ہوا ہے، جب تک جناب عباس کا تعلق ہے، تو یہ ادائیگی میرے ذمہ ہے اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید ادائیگی میں انہیں بھی کر دوں گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2006
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1468، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 983، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2329، 2330، بدون ترقيم، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3273، 7050، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2466، 2467، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2255، 2256، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1623، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3761، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2006، 2007، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 8400»