سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْغَنِيِّ الَّذِي يُحْرَمُ السُّؤَالَ باب: وہ خوشحالی جو مانگنے کو حرام کردیتی ہے
حدیث نمبر: 2004
قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ أَبُو يَعْقُوبَ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ غِنًى جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي وَجْهِهِ كُدُوحٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ خُمُوشٌ " ، قِيلَ : وَمَا غِنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ " . حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَتْرُوكٌ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی سے کچھ مانگے، حالانکہ وہ خوشحال ہو، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا، تو اس کے چہرے پر داغ ہو گا (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔“ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! اس کی خوشحالی سے مراد کیا ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچاس درہم یا ان کی قیمت جتنا سونا (موجود ہونا)۔“ حکیم بن جبیر نامی راوی متروک ہے۔