سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْغَنِيِّ الَّذِي يُحْرَمُ السُّؤَالَ باب: وہ خوشحالی جو مانگنے کو حرام کردیتی ہے
حدیث نمبر: 2002
حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الأَنْطَاكِيُّ ، ثنا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ بَكْرِ بْنِ فُضَيْلٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، ثنا حَمَّادٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَهُوَ غَنِيُّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي وَجْهِهِ كُدُوحٌ وَخُدُوشٌ " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا غِنَاهُ ؟ قَالَ : " أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا ذَهَبًا " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود لوگوں سے مانگے، جب وہ قیامت کے دن آئے گا، تو اس کے چہرے پر داغ موجود ہو گا (یہاں تک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔“ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! خوشحالی سے مراد کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چاہے درہم یا ان کی قیمت جتنا سونا۔“